المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الأخذ باختلاف الصحابة باب: صحابہ کرام کے مابین پائے جانے والے اجتہادی اختلافات کو (بطورِ دلیل و حجت) اختیار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، اخْتَلَفَا فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي ، فَقَالَ أُبَيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فِي ثَوْبَيْنِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ : رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَا فِي فُتْيَا وَاحِدَةٍ ، فَبِأَيِّ الْقَوْلَيْنِ يَصْدُرُ النَّاسُ ؟ ثُمَّ قَالَ : أَلَا إِنَّ الْقَوْلَ مَا قَالَ أُبَيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَمْ يَأْلُ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے درمیان اس شخص کے متعلق اختلاف ہوا جو نماز پڑھتا ہو، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے“، جبکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”(لازم ہے کہ) دو کپڑوں میں نماز پڑھے“، جب یہ بات امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے ان دونوں کی طرف پیغام بھیج کر انہیں طلب کیا اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے دو جلیل القدر شخصیات نے ایک ہی مسئلے کے فتوے میں اختلاف کر دیا ہے، اب لوگ ان دونوں اقوال میں سے کس کے مطابق عمل کریں؟“، پھر انہوں نے خود ہی فیصلہ صادر کرتے ہوئے فرمایا: ”آگاہ ہو جاؤ! درست بات وہی ہے جو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، اور (اس اجتہاد میں) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی“۔
صحيح موقوف۔