❮
❯
حدیث نمبر: 3026
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا يَسُرُّنِي بِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرُ النَّعَمِ ، لِأَنَّا إِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ أَصَبْنَا ، وَإِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ أَصَبْنَا .
صَحِيحٌ مَقْطُوعٌ .
ترجمہ

عون بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے باہمی (اجتہادی) اختلاف کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹوں (جیسا قیمتی ترین مال) ملنا ہرگز خوش نہیں کرتا، کیونکہ اگر ہم ان (صحابہ کی ایک جماعت) کے قول کو اختیار کریں تب بھی ہم درست اور حق بجانب ہوں گے اور اگر ہم ان (صحابہ کی دوسری جماعت) کے قول کو اپنائیں تو تب بھی ہم درستی کو پانے والے ہی ہوں گے۔“
یہ روایت صحیح اور مقطوع ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب العلم / حدیث: 3026
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مقطوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ مَقْطُوعٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»