المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب العلم— علم کے فضائل اور آداب کا بیان۔
بَابُ الأخذ باختلاف الصحابة باب: صحابہ کرام کے مابین پائے جانے والے اجتہادی اختلافات کو (بطورِ دلیل و حجت) اختیار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3026
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا يَسُرُّنِي بِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرُ النَّعَمِ ، لِأَنَّا إِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ أَصَبْنَا ، وَإِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ هَؤُلَاءِ أَصَبْنَا .
صَحِيحٌ مَقْطُوعٌ .ترجمہ
عون بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے باہمی (اجتہادی) اختلاف کے بدلے میں مجھے سرخ اونٹوں (جیسا قیمتی ترین مال) ملنا ہرگز خوش نہیں کرتا، کیونکہ اگر ہم ان (صحابہ کی ایک جماعت) کے قول کو اختیار کریں تب بھی ہم درست اور حق بجانب ہوں گے اور اگر ہم ان (صحابہ کی دوسری جماعت) کے قول کو اپنائیں تو تب بھی ہم درستی کو پانے والے ہی ہوں گے۔“
یہ روایت صحیح اور مقطوع ہے۔