❮
❯
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ شِبْلٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنْ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : وَقَعَ فِي نَفْسِ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : هَلْ يَنَامُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ؟ فَأَرْسَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا ، فَأَرَّقَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَعْطَاهُ قَارُورَتَيْنِ فِي كُلِّ يَدٍ قَارُورَةٌ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْتَفِظَ بِهِمَا ، قَالَ : فَجَعَلَ يَنَامُ ، وَتَكَادُ يَدَاهُ يَلْتَقِيَانِ ، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ ، فَيَحْبِسُ إِحْدَاهُمَا عَنِ الْأُخْرَى ، حَتَّى نَامَ نَوْمَةً ، فَاصْطَفَقَتْ يَدَاهُ ، فَانْكَسَرَتِ الْقَارُورَتَانِ ، قَالَ : فَضَرَبَ اللهُ تَعَالَى لَهُ مَثَلًا : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ كَانَ يَنَامُ ، لَمْ تَسْتَمْسِكِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نیند فرماتا ہے؟ پس اللہ عزوجل نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جس نے انہیں تین دن تک مسلسل بیدار رکھا، پھر انہیں شیشے کی دو بوتلیں عطا کیں، ان کے ہر ہاتھ میں ایک ایک بوتل تھی اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان دونوں کی پوری طرح حفاظت کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ان پر نیند کا غلبہ ہونے لگا، یہاں تک کہ ان کے دونوں ہاتھ ایک دوسرے کے قریب پہنچ جاتے، پھر وہ اچانک بیدار ہوتے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے الگ کر کے بچاتے۔ بالآخر انہیں ایک مرتبہ بھرپور نیند آ گئی اور ان کے دونوں ہاتھ آپس میں ٹکرا گئے جس سے وہ دونوں بوتلیں ٹوٹ کر چکنا چور ہو گئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ مثال پیش فرمائی کہ بے شک اللہ عزوجل اگر نیند فرماتا تو یہ آسمان اور زمین ہرگز تھم نہ سکتے (بلکہ درہم برہم ہو جاتے)۔“
اس حدیث کا مفہوم قرآن مجید کی اس آیت کی تائید کرتا ہے: ﴿لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ﴾ [سورة البقرة: 255]، یعنی اللہ تعالیٰ کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اور یہ کائنات اسی کی قدرت اور تدبیر سے قائم ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 3018
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لا يصح. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6669»