❮
❯
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، ثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْيَاتًا ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ :
شَهِدْتُ بِإِذْنِ اللهِ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولٌ فَوْقَ السَّمَاوَاتِ مِنْ عَلُ وَإِنَّ أَبَا يَحْيَى وَيَحْيَى كِلَاهُمَا
لَهُ عَمَلٌ فِي دِينِهِ مُتَقَبَّلُ وَإِنَّ أَخَا الْأَحْقَافِ إِذْ قَامَ فِيهِمْ
يَقُومُ بِذَاتِ اللهِ فِيهِمْ وَيَعْدِلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَنَا .
ترجمہ

حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے چند اشعار پڑھے، چنانچہ انہوں نے کہا: ”میں نے اللہ کے حکم و اذن سے اس بات کی گواہی دی ہے کہ بے شک محمد ﷺ بلند و بالا آسمانوں کے اوپر سے بھیجے گئے اللہ کے رسول ہیں؛ اور بے شک ابو یحییٰ (زکریا علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) دونوں ہی ایسے جلیل القدر ہیں کہ اللہ کے دین میں ان کا عمل مقبول و پسندیدہ ہے؛ اور بے شک احقاف والوں کے بھائی (ہود علیہ السلام) جب اپنی قوم میں (دعوتِ حق کے لیے) کھڑے ہوئے تو وہ ان میں محض اللہ کی رضا کی خاطر حق پر قائم ہوئے اور انہوں نے عدل و انصاف سے کام لیا۔“ تو اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور میں بھی (اسی بات کی گواہی دیتا ہوں)۔“
مسند احمد: 3028، اس روایت کی سند میں حبیب بن ابی ثابت کا سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے، اس لیے یہ سنداً منقطع ہے، تاہم اشعار کا مفہوم دیگر صحیح شواہد کی روشنی میں درست ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 3017
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 43، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 29، 6827»