❮
❯
حدیث نمبر: 3014
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْيَهُودِ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : نَسْأَلُكَ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ : أَخْبِرْنَا عَنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ مَنْ هُمْ ؟ وَعَنْ مَنِيِّ الرَّجُلِ وَمَنِيِّ الْمَرْأَةِ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا حَمَلَةُ الْعَرْشِ فَإِنَّ الْهَوَامَّ تَحْمِلُهُ بِقُرُونِهَا ، وَالْبَحْرَةُ الَّتِي فِي الشَّمْسِ مِنْ عَرَقِهِمْ ، وَمَنِيُّ الرَّجُلِ أَبْيَضُ غَلِيظٌ ، وَمَنِيُّ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ ، وَذَكَرَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ ، هَكَذَا نَجِدُهُ فِي التَّوْرَاةِ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ”ہم آپ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں جنہیں ایک نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا؛ آپ ہمیں «حَمَلَةُ الْعَرْشِ» (عرشِ الہٰی کو اٹھانے والے فرشتوں) کے بارے میں بتائیے کہ وہ کون ہیں؟ اور مرد و عورت کے مادۂ منویہ کی حقیقت کیا ہے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رہی بات عرش کو اٹھانے والوں کی، تو وہ ایسی عظیم الجثہ مخلوقات ہیں جنہوں نے اسے اپنے سینگوں پر اٹھایا ہوا ہے، اور سورج میں جو تپش اور مائع کی سی کیفیت ہے وہ ان کے پسینے سے ہے، نیز مرد کا مادہ منویہ سفید اور گاڑھا ہوتا ہے جبکہ عورت کا مادہ منویہ زرد اور پتلا ہوتا ہے“، اور آپ ﷺ نے تیسری بات کا بھی تذکرہ فرمایا، (یہ سن کر) ان یہودیوں نے کہا: ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے نبی ہیں، کیونکہ ہم تورات میں بھی اسی طرح لکھا ہوا پاتے ہیں“۔
اس حدیث کی سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں اور روایت کے بعض حصے تفرد اور منکر ہونے کی بنا پر علمی و اسنادی لحاظ سے محلِ نظر ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 3014
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا السند ضعيف، وعلته الانقطاع لأنه إن كان الصحابي عائشة أم المؤمنين فهو منقطع لأن خالدا لم يلق عائشة كما ذكر أبو زرعة. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»