المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تكذيب مِنْ يؤمن بالرجعة فِي الدنيا باب: دنیا میں رجعت کے قائل شخص کی تکذیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3009
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّ هَذِهِ الشِّيعَةَ تَزْعُمُ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَبْعُوثٌ ؟ فَقَالَ : كَذَبُوا ، مَا أُولَئِكَ بِشِيعَةٍ ، لَوْ كَانَ مَبْعُوثًا مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ ، وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ .ترجمہ
عمرو بن اصم سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے عرض کی کہ ”بے شک یہ شیعہ (یعنی خود کو ان کا پیروکار کہنے والے) یہ گمان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں) مبعوث کیے جائیں گے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے سراسر جھوٹ بولا ہے، وہ لوگ (ہمارے حقیقی) متبعین نہیں ہیں؛ اگر انہیں دوبارہ مبعوث کیا جانا ہوتا تو نہ ہم ان کی بیوگان کے (دوسرے) نکاح کرواتے اور نہ ہی ان کی میراث تقسیم کرتے۔“
[مسند مسدد: 3009، اس کی سند صحیح ہے]