المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ العفو عما دُونَ الشرك باب: شرک سے کم گناہوں کی معافی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3010
قَالَ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ وَعَدَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عَمَلٍ ثَوَابًا فَهُوَ مُنْجِزُهُ لَهُ ، وَمَنْ وَعَدَهُ عَلَى عَمَلٍ عِقَابًا فَهُوَ فِيهِ بِالْخِيَارِ .
قَالَ الْبَزَّارُ : سُهَيْلٌ لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص سے اللہ عزوجل نے کسی (نیک) عمل پر ثواب کا وعدہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس وعدے کو لازماً پورا فرمانے والا ہے، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی (بد) عمل پر سزا کی وعید سنائی تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں مکمل اختیار کا مالک ہے (کہ چاہے تو اسے اپنے فضل سے معاف فرما دے اور چاہے تو اپنے عدل سے سزا دے)۔“
امام بزار فرماتے ہیں کہ راوی سہیل کی اس حدیث پر متابعت نہیں کی گئی (یعنی ان کی روایت منفرد ہے)۔