المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ التزكية باب: اپنی تعریف کرنے اور خود کو پاک باز قرار دینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3008
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثَنَا مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَتِمُّ إِيمَانُ الْمَرْءِ حَتَّى يَسْتَثْنِيَ فِي كُلِّ حَدِيثِهِ ، أَوْ قَالَ : فِي كَلَامِهِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنی ہر بات“ یا آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ہر گفتگو میں (ان شاء اللہ کہہ کر) استثناء نہ کر لے۔“
اسے امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عبداللہ بن سعید بن ابی سعید المقبری اور معارک بن عباد جیسے راویوں کی وجہ سے محدثین کے نزدیک ضعف پایا جاتا ہے۔