المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ التزكية باب: اپنی تعریف کرنے اور خود کو پاک باز قرار دینے کی کراہت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَهُوَ كَافِرٌ ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ فِي الْجَنَّةِ فَهُوَ فِي النَّارِ ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ عَالِمٌ فَهُوَ جَاهِلٌ ، قَالَ : فَنَازَعَهُ رَجُلٌ قَالَ : إِنْ تَذْهَبُوا بِالسُّلْطَانِ فَإِنَّ لَنَا الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ فِي الْجَنَّةِ فَهُوَ فِي النَّارِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ (کامل) مومن ہے تو وہ کافر ہے، اور جس نے یہ زعم پالا کہ وہ جنتی ہے تو وہ دوزخی ہے، اور جس نے یہ گمان کیا کہ وہ بہت بڑا عالم ہے تو وہ جاہل ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے تکرار کرتے ہوئے کہا: ”اگر آپ لوگ (اپنی سیادت کی بنا پر) اقتدار و سلطنت لے جائیں، تب بھی ہمارے لیے تو جنت ہی ہے،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ جنتی ہے، تو وہ جہنمی ہے۔““
مسند الحارث: 3018، اس روایت کی سند منقطع ہے کیونکہ قتادہ کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔