المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ التزكية باب: اپنی تعریف کرنے اور خود کو پاک باز قرار دینے کی کراہت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِرَأْيِهِ ، وَمَنْ قَالَ : أَنَا عَالِمٌ ، فَهُوَ جَاهِلٌ ، وَمَنْ قَالَ : إِنِّي فِي الْجَنَّةِ ، فَهُوَ فِي النَّارِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے تمہارے حق میں جس بات کا سب سے زیادہ اندیشہ اور خوف ہے، وہ کسی شخص کا اپنی ہی رائے پر اترانا اور خود پسندی میں مبتلا ہونا ہے؛ اور جس شخص نے (تکبر و پندار کے طور پر) یہ کہا کہ: ”میں عالم ہوں“، تو درحقیقت وہ جاہل ہے، اور جس نے یہ دعویٰ کیا کہ: ”یقیناً میں جنتی ہوں“، تو وہ (اپنے اس غرورِ نفس کی بنا پر) جہنمی ہے۔“
یہ اثر مسند الحارث (بغية الباحث) میں موجود ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، تاہم اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث اور آثار سے ثابت ہے جو خود پسندی اور تکبر کی مذمت میں وارد ہوئے ہیں۔