❮
❯
حدیث نمبر: 3006
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ كَرِيزٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِرَأْيِهِ ، وَمَنْ قَالَ : أَنَا عَالِمٌ ، فَهُوَ جَاهِلٌ ، وَمَنْ قَالَ : إِنِّي فِي الْجَنَّةِ ، فَهُوَ فِي النَّارِ .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے تمہارے حق میں جس بات کا سب سے زیادہ اندیشہ اور خوف ہے، وہ کسی شخص کا اپنی ہی رائے پر اترانا اور خود پسندی میں مبتلا ہونا ہے؛ اور جس شخص نے (تکبر و پندار کے طور پر) یہ کہا کہ: ”میں عالم ہوں“، تو درحقیقت وہ جاہل ہے، اور جس نے یہ دعویٰ کیا کہ: ”یقیناً میں جنتی ہوں“، تو وہ (اپنے اس غرورِ نفس کی بنا پر) جہنمی ہے۔“
یہ اثر مسند الحارث (بغية الباحث) میں موجود ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی ضعیف راوی ہے، تاہم اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث اور آثار سے ثابت ہے جو خود پسندی اور تکبر کی مذمت میں وارد ہوئے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 3006
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3007»