المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ التزكية باب: اپنی تعریف کرنے اور خود کو پاک باز قرار دینے کی کراہت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ : إِنِّي مُؤْمِنٌ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ : فَقُلْ : إِنِّي فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : آمَنْتُ بِاللهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكُتُبِهِ ، وَرُسُلِهِ .سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص نے (اپنے بارے میں حتمی طور پر) کہا: «إِنِّي مُؤْمِنٌ» ”بلا شبہ میں مومن ہوں،“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (اس کے اس دعوے پر گرفت کرتے ہوئے) اس سے فرمایا: ”(اگر تمہارا دعویٰ درست ہے) تو پھر یہ بھی کہہ دو کہ: «إِنِّي فِي الْجَنَّةِ» ”یقیناً میں جنتی ہوں،“ (یعنی اگر تمہیں اپنے ایمان کے کامل ہونے اور اس کے نتیجے پر اتنا ہی یقین ہے تو اپنے جنتی ہونے کا بھی قطعی اعلان کر دو)، اس شخص نے (وضاحت کرتے ہوئے) کہا: «آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ» ”میں اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں۔“
یہ اثر صحیح ہے اور اسے امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، جس میں ایمان کے متعلق صحابہ کرام کے محتاط طرزِ عمل کی نشاندہی ہوتی ہے۔