المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الوسوسة باب: وسوسے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ هُوَ الْمُرِّيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي صَدْرِي شَيْئًا ، لَوْ أَبْدَيْتُهُ لَهَلَكْتُ ، أَفَهَالِكٌ أَنَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى تَجَاوُزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَكَلَّمْ ، أَوْ تَعْمَلْ .سیدنا زرارہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں کھڑا ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے سینے میں ایک ایسی بات (وسوسہ) ہے کہ اگر میں اسے ظاہر کر دوں تو میں یقیناً برباد ہو جاؤں، تو کیا میں ہلاک ہونے والا ہوں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان وساوس کو معاف فرما دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک کہ وہ انہیں زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔“
امام حارث نے اسے روایت کیا ہے، اس کی سند میں صالح بن بشیر المری ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت و موجود ہے۔