المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الوسوسة باب: وسوسے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ : سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، لَوْ تَكَلَّمَ بِهِ ذَهَبَتْ آخِرَتُهُ ، وَلَوْ ظَهَرَ عَلَيْهِ لَقُتِلَ ، قَالَ : فَكَبَّرَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَتْ : سُئِلَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا يُخْتَبَرُ الْمُؤْمِنُ .شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: ”بلاشبہ ہم میں سے کوئی اپنے جی میں ایسی (ناپسندیدہ) باتیں اور وسوسے پاتا ہے کہ اگر وہ انہیں زبان پر لے آئے تو اس کی آخرت برباد ہو جائے، اور اگر وہ (خیالات لوگوں پر) ظاہر ہو جائیں تو اسے قتل کر دیا جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تین مرتبہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی اسی بارے میں دریافت کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے بھی تین مرتبہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور پھر ارشاد فرمایا: ”دراصل مومن کی (ایسے ہی شدید وسوسوں کے ذریعے) آزمائش کی جاتی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب پر علمی کلام ہے، تاہم ایسے وسوسوں کے متعلق نفسِ مضمون صحیح مسلم وغیرہ کی مستند احادیث میں بھی وارد ہوا ہے جہاں آپ ﷺ نے ان وسوسوں کے خوف کو صریح ایمان کی علامت قرار دیا۔