المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الوسوسة باب: وسوسے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، إِنَّهُ لَيَعْتَرِضُ فِي صَدْرِي الشَّيْءُ وَوَدِدْتُ أَنْ أَكُونَ حُمَمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي قَدْ يَأَّسَ الشَّيْطَانَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ مَرَّةً أُخْرَى ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ .
قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ ذَرٍّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بَعْضَهُ ، وَزَادَ : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ .
وَالْأَوَّلُ مُنْقَطِعٌ .سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذاتِ اقدس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، یقیناً میرے سینے میں (ایسے وسوسے اور) خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ (انہیں زبان پر لانے کے بجائے) میں اس بات کو زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں جل کر کوئلہ بن جاؤں۔" تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي قَدْ يَأَّسَ الشَّيْطَانَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ مَرَّةً أُخْرَى» "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے شیطان کو اس بات سے مایوس کر دیا ہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اب دوبارہ کبھی اس کی پرستش کی جائے گی"، «وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ» "لیکن وہ تمہارے ان اعمال پر راضی ہو گیا ہے جنہیں تم معمولی اور حقیر خیال کرتے ہو"۔
میں کہتا ہوں کہ اسے امام ابوداؤد اور امام نسائی نے ذر کی روایت سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر انہوں نے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے شیطان کے مکر و فریب کو محض وسوسے کی حد تک لوٹا دیا"۔
اور پہلی روایت کی سند منقطع ہے۔