المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تَرْكِ تكفير أهل الْقِبْلَةِ باب: اہلِ قبلہ کو کافر قرار نہ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ ابْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ تَأَلَّى عَلَى عَبْدِي ، أَدْخَلْتُ عَبْدِي الْجَنَّةَ وَأَدْخَلْتُهُ النَّارَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: «مَنْ تَأَلَّى عَلَى عَبْدِي، أَدْخَلْتُ عَبْدِي الْجَنَّةَ وَأَدْخَلْتُهُ النَّارَ» ”جس کسی نے میرے کسی بندے کے متعلق (تکبر یا خود پسندی کی بنا پر اللہ کی) قسم کھائی (کہ میں اسے معاف نہیں کروں گا)، تو میں نے اپنے اس بندے کو تو جنت میں داخل کر دیا اور اس (قسم کھانے والے) کو جہنم میں جھونک دیا ہے“۔
تخریج: اس حدیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان (3001) میں روایت کیا ہے، اور اس کا شاہد صحیح مسلم (2621) میں حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔