المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَدْرِ مَا يَكْفِي مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ باب: وضو اور غسل کے لیے پانی کی کفایت کر جانے والی مقدار کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا حَجَّتْ مَرَّتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهَا : " أَرِينِي الْإِنَاءَ الَّذِي كَانَ يَتَوَضَّأُ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَتْ : فَأَخْرَجَتْهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا مَكُّوكُ الْمُفْتِي . فَقُلْتُ : أَرِينِي الْإِنَاءَ الَّذِي كَانَ يَغْتَسِلُ فِيهِ ؟ فَأَخْرَجَتْهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا الْقَفِيزُ الْمُفْتِي ، هُوَ قَدَحُ الشُّطَّارِ ".
وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . يَزِيدُ ضَعِيفٌ ، وَالْمَرْأَةُ لَمْ أَعْرِفْ حَالَهَا .یزید رقاشی اپنی قوم کی ایک خاتون سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب حج کے لیے جاتیں تو ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوتیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان سے عرض کیا ”مجھے وہ برتن دکھائیں جس میں رسول اللہ ﷺ وضو فرمایا کرتے تھے!“ تو انہوں نے وہ برتن نکال کر دکھایا جس پر میں نے (اس کی مقدار دیکھ کر) کہا ”یہ تو مکوکِ مفتی (یعنی شرعی فتویٰ کے مطابق ایک مخصوص پیمانہ) ہے“۔ پھر میں نے عرض کیا ”مجھے وہ برتن بھی دکھائیں جس میں آپ ﷺ غسل فرمایا کرتے تھے؟“ تو انہوں نے وہ برتن بھی نکال کر دکھایا جس پر میں نے کہا ”یہ تو قفیزِ مفتی ہے، اور یہی قدحِ شطار (یعنی عراق میں چاک و چوبند مسافروں میں رائج ایک بڑا پیالہ) ہے“۔ اس حدیث کی سند میں کلام ہے کیونکہ یزید نامی راوی ضعیف ہے اور اس میں مذکورہ خاتون کے حالاتِ زندگی بھی معلوم نہیں ہیں۔