المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمِيَاهِ باب: پانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الْوُضُوءِ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ قَالَ : " هُمَا الْبَحْرَانِ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِمَا بَدَأْتَ " .
هَذَا مَوْقُوفٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سمندر کے پانی سے وضو کرنے کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ دونوں ہی سمندر (یعنی میٹھا اور کھاری پانی) ہیں، تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا کوئی حرج نہیں ہوگا کہ تم ان دونوں میں سے جس کے ساتھ بھی وضو کا آغاز کر لو۔“ یہ روایت موقوف ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔