المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَدْرِ مَا يَكْفِي مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ باب: وضو اور غسل کے لیے پانی کی کفایت کر جانے والی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 4
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ : أَرِينِي - فَذَكَرَهُ ، وَفِيهِ أَنَّهَا قَالَتْ فِي إِنَاءِ الْغُسْلِ : هَذَا مَخْتُومٌ ، يَعْنِي الصَّاعَ ، وَقَالَتْ فِي إِنَاءِ الْوُضُوءِ : هَذَا رُبُعُ الْمُفْتِي .
وَفِي إِسْنَادِهِ لِينٌ .ترجمہ
یزید الرقاشی اپنی قوم کی ایک خاتون سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ مجھے (نبی کریم ﷺ کے استعمال کے برتن) دکھائیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس میں یہ تذکرہ ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے غسل کے برتن کے متعلق فرمایا: ”یہ مختوم ہے“ یعنی اس سے مراد ایک صاع کی مقدار کا برتن ہے، اور انہوں نے وضو کے برتن کے متعلق فرمایا: ”یہ مفتی (نامی پیمانے) کا چوتھائی حصہ ہے“ یعنی اس کی مقدار ایک مد کے برابر ہے؛ اور اس حدیث کی سند میں قدرے کمزوری پائی جاتی ہے۔