❮
❯
حدیث نمبر: 2998
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ بِمَكَّةَ ، وَكَانَ نَازِلًا فِي بَنِي فِهْرٍ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ : هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ مُشْرِكًا ؟ فَقَالَ : مَعَاذَ اللهِ وَفَزِعَ لِذَلِكَ ، قُلْتُ : هَلْ كُنْتُمْ تَدْعُونَ أَحَدًا مِنْهُمْ كَافِرًا ؟ قَالَ : لَا .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ

ابو سفیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت دریافت کیا جب وہ مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کیے ہوئے تھے اور قبیلہ بنو فہر میں ٹھہرے ہوئے تھے، اسی دوران ایک شخص نے ان سے سوال کیا: ”کیا آپ لوگ اہل قبلہ (مسلمانوں) میں سے کسی کو مشرک قرار دیتے تھے؟“ انہوں نے (انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) جواب دیا: «مَعَاذَ اللهِ» ”اللہ کی پناہ!“ اور وہ اس سوال کی سنگینی کی وجہ سے سخت گھبرا گئے، پھر میں نے پوچھا: ”کیا آپ ان میں سے کسی کو کافر کہتے تھے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“
یہ روایت صحیح ہے اور موقوف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2998
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ . »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2317، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7354»