المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تَرْكِ تكفير أهل الْقِبْلَةِ باب: اہلِ قبلہ کو کافر قرار نہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، إِنَّ نَاسًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنَا بِالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ ؟ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أُولَئِكَ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (یزید رقاشی نے) ان سے عرض کیا: ”اے ابو حمزہ! بے شک کچھ لوگ ہم پر کفر اور شرک کی گواہی دیتے ہیں (یعنی ہمیں کافر اور مشرک ٹھہراتے ہیں)؟“ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے (جواباً) ارشاد فرمایا: ”وہی لوگ پوری کائنات اور تمام مخلوقات میں سب سے بدتر اور شریر ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی راوی ضعیف ہے، تاہم خوارج کے اوصاف کے متعلق یہ مضمون دیگر مستند اور صحیح احادیث میں بھی مروی ہے۔