المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ تَرْكِ تكفير أهل الْقِبْلَةِ باب: اہلِ قبلہ کو کافر قرار نہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2997
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبٍ يَعْنِي ابْنَ مُنَبِّهٍ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : هَلْ فِي الْمُصَلِّينَ مِنْ طَوَاغِيتَ ؟ قَالَ : لَا ، وَسَأَلْتُهُ هَلْ فِيهِمْ مُشْرِكٌ ؟ قَالَ : لَا .ترجمہ
وہب بن منبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”کیا نماز پڑھنے والوں میں کوئی طاغوت (انتہائی سرکش یا باطل کی طرف بلانے والا) ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ پھر میں نے ان سے سوال کیا: ”کیا ان میں کوئی مشرک ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“
یہ روایت امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔