المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا باب: ان اوقات کا بیان جن میں نماز ادا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : ( رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ ، فَقَالَ تَمِيمٌ : لِمَ يَا عُمَرُ تَضْرِبُنِي عَلَى صَلَاةٍ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا تَمِيمُ ، لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَعْلَمُ مَا تَعْلَمُ ) .سیدنا وبرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کو عصر کی نماز کے بعد (نفل) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہیں اپنے درے سے مارا، جس پر سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے استفسار کیا: ”اے عمر! آپ مجھے ایسی نماز کی ادائیگی پر کیوں مار رہے ہیں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ادا کی ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اے تمیم! (میں آپ کے عمل کی حقیقت سے واقف ہوں مگر) تمام لوگ وہ علمی بصیرت نہیں رکھتے جو آپ کے پاس ہے (اور آپ کی اتباع میں لوگ اس وقت میں نماز کو معمول نہ بنا لیں)۔“
یہ روایت مسند الحارث کی ہے اور اس کی سند میں موجود راویوں کی توثیق کی گئی ہے، نیز یہ واقعہ عصر کے بعد نفل نماز کی ممانعت اور عوام الناس کو کراہت والے اوقات سے بچانے کے لیے حکمرانِ وقت کی تنبیہ پر دلالت کرتا ہے۔