المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ يَزِيدَ الشَّامِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْدَثَ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَمَا الْحَدَثُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ، أَوْ أَمْثَلَ مَثُلَةً بِغَيْرِ قَوَدٍ ، أَوِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً بِغَيْرِ سُنَّةٍ قَالَ : وَالْعَدْلُ : الْفِدْيَةُ ، وَالصَّرْفُ : التَّوْبَةُ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ لَكِنَّهُ مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ .امیہ بن یزید الشامی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اسلام میں کوئی نیا (فتنہ یا شنیع) کام ایجاد کیا، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی دائمی لعنت ہو، اس کی نہ تو کوئی توبہ قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی فدیہ (یا نفل و فرض)۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ نیا کام (حدث) کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی جان کو ناحق (بغیر کسی جان کے بدلے) قتل کرنا، یا قصاص کے بغیر کسی کا مثلہ کرنا (اعضاء کاٹنا)، یا سنت کے مقابلے میں کوئی نئی بدعت ایجاد کرنا۔“ راوی نے وضاحت کی کہ (حدیث میں وارد لفظ) «الْعَدْلُ» سے مراد فدیہ ہے اور «الصَّرْفُ» سے مراد توبہ ہے۔
اس کی سند حسن ہے لیکن یہ روایت مرسل یا معضل ہے۔