❮
❯
حدیث نمبر: 2989
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : إِنَّ قَتَادَةَ ، جَاءَ إِلَيْهِ لِيَجْلِسَ ، فَقَالَ لَهُ : إِنْ جَلَسْتَ قُمْتُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّهُ فَقِيهٌ ، قَالَ : إِبْلِيسُ أَفْقَهُ مِنْهُ ، إِذْ قَالَ : رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي .
قُلْتُ : يُشِيرُ بِذَلِكَ إِلَى مَا رُمِيَ بِهِ قَتَادَةُ مِنَ الْقَدَرِ .
ترجمہ

امام طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ ان کے پاس مجلس میں بیٹھنے کی غرض سے آئے تو امام طاؤس نے ان سے فرمایا: ”اگر تم یہاں بیٹھے تو میں یہاں سے اٹھ جاؤں گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: ”اے ابو محمد! وہ تو ایک فقیہ (دین کی گہری سمجھ رکھنے والے) ہیں۔“ انہوں نے جواب دیا: ”ابلیس تو ان سے بھی بڑا فقیہ تھا، کیونکہ اس نے (اللہ کی مشیت و تقدیر کا اعتراف کرتے ہوئے) یہ کہا تھا: «رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي» ”اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا۔“ ﴿سورة الحجر: 39﴾۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ امام طاؤس کا اس قول سے اشارہ اس نظریے کی طرف تھا جس میں قتادہ پر تقدیر (یعنی منکرینِ تقدیر کے عقیدے) کی نسبت کی جاتی تھی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2989
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»