المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَسْتُ أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مُؤْمِنًا مُوقِنًا ، وَلَا كَافِرًا مُعْلِنًا ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ الْمُوقِنُ فَيَحْجِزُهُ إِيمَانُهُ ، وَأَمَّا الْمُعْلِنُ فَبِكُفْرِهِ ، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي عَالِمًا لِسَانُهُ ، جَاهِلًا قَلْبُهُ ، يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ وَيَعْمَلُ مَا تُنْكِرُونَ .
2987 \ 2 - أَخْبَرَنَا غَسَّانُ الْكُوفِيُّ أَبُو بِشْرٍ الْأَسَدِيُّ : وَكَانَ جَلِيسَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فِي حَلْقَةٍ : أَيُّكُمْ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَسْتُ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِنًا ، وَلَا كَافِرًا ، أَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَمْنَعُهُ إِيمَانُهُ ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَمْنَعُهُ كُفْرُهُ ، وَلَكِنَّ رَجُلًا بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، حَتَّى إِذَا ذَلِقَ بِهِ يَتَأَوَّلُهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ ، فَقَالَ مَا تَعْلَمُونَ ، وَعَمِلَ مَا تُنْكِرُونَ فَضَلَّ وَأَضَلَّ .
قُلْتُ : أَظُنُّ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَنِيَّ الْمَذْكُورَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى هُوَ إِسْحَاقُ الْمَذْكُورُ فِي الثَّانِيَةِ ، وَإِنَّمَا دَلَّسَهُ بَقِيَّةُ لِضَعْفِهِ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے بعد تمہارے بارے میں کسی پختہ یقین رکھنے والے مومن سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی کسی اعلانیہ کفر کرنے والے سے؛ رہا وہ مومن جو صاحبِ یقین ہو تو اس کا ایمان اسے (تمہیں نقصان پہنچانے سے) روک لے گا، اور رہا وہ کھلا کافر تو اس کا کفر ہی (تمہارے لیے اس کے شر سے رکاوٹ) بن جائے گا، لیکن میں تمہارے بارے میں اپنے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جس کی زبان تو عالمانہ ہو مگر دل جاہل ہو، وہ ایسی باتیں کہتا ہے جنہیں تم (بطورِ حق) پہچانتے ہو لیکن ایسے کام کرتا ہے جن کا تم انکار کرتے ہو (یعنی وہ خلافِ شرع ہیں)۔“
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک حلقہ ذکر میں ایک شخص نے سوال کیا کہ تم میں سے کون مجھے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث سنائے گا؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا کہ میں سناؤں گا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں اپنی امت پر نہ تو کسی مومن سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی کسی کافر سے؛ مومن کو تو اس کا ایمان (برائی سے) باز رکھتا ہے اور کافر کو اس کا کفر (رسوا کر کے) روک دیتا ہے، بلکہ میں اس شخص سے ڈرتا ہوں جو ان دونوں کے درمیان (منافق) ہے، وہ قرآن پڑھتا ہے یہاں تک کہ جب قرآن اس کی زبان پر خوب رواں ہو جاتا ہے تو وہ اس کی ایسی غلط سلط تاویلیں کرنے لگتا ہے جو اس کے اصل مفہوم کے خلاف ہوتی ہیں، وہ ایسی باتیں کہتا ہے جنہیں تم (حق) جانتے ہو مگر ایسے کام کرتا ہے جنہیں تم منکر (ناپسندیدہ) جانتے ہو، پس وہ خود بھی گمراہ ہوا اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔“
میں کہتا ہوں: میرا گمان ہے کہ پہلی روایت میں مذکور ابو عبدالرحمن مدنی وہی اسحاق بن عبداللہ ہیں جن کا ذکر دوسری روایت میں ہے، اور یقیناً بقیہ بن ولید نے اسحاق کے ضعف کی وجہ سے ان کی کنیت ذکر کر کے تدلیس (نام چھپانے کی کوشش) کی ہے۔