المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2986
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ( عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ) ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّهُ سَيَكُونُ ( نَاسٌ ) يُكَذِّبُونَ بِالدَّجَّالِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَيُكَذِّبُونَ بِعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَيُكَذِّبُونَ بِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتُحِشُوا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دجال (کے ظہور) کو جھٹلائیں گے، سورج کے اپنے مقامِ مغرب سے طلوع ہونے کی تکذیب کریں گے، عذابِ قبر کا انکار کریں گے، اور ان لوگوں (کی نجات) کے متعلق بھی جھٹلائیں گے جنہیں جہنم کی آگ میں جھلس کر کوئلہ بن جانے کے بعد وہاں سے نکالا جائے گا۔“
اس روایت کی سند میں علی بن زید بن جدعان راوی ضعیف ہے، البتہ اس میں مذکورہ پیش گوئیاں دیگر مستند احادیث و آثار میں بھی وارد ہوئی ہیں۔