المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَمَعَ النَّاسَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ ، فَقَالَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : انْظُرْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَائْذَنْ لَهُمْ أَوَّلَ النَّاسِ ، ثُمَّ الْقَرْنَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، فَدَخَلُوا ، فَصُفُّوا قُدَّامَهُ ، فَنَظَرُوا فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ عَلَيْهِ مُقَطَّعَةُ بُرُودٍ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِيهٍ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : قَالَ الرَّجُلُ : إِيهٍ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أُفٍّ ، قُمْ ، فَقَامَ فَنَظَرَ ، فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ رَجُلٌ خَفِيفُ الْجِسْمِ ، قَصِيرٌ ثَبْطٌ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِيهٍ ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ : إِيهٍ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِيهٍ ، فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ : سَلْ وَافْتَحْ حَدِيثًا فَنُحَدِّثَكَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أُفٍّ ، قُمْ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَنْفَعَكَ رَاعِي ضَأْنٍ ، فَنَظَرَ ، فَإِذَا رَجُلٌ أَبْيَضُ خَفِيفُ الْجِسْمِ ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِيهٍ ، فَوَثَبَ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ بِاللهِ .
ثُمَّ قَالَ : إِنَّكَ وُلِّيتَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، فَاتَّقِ اللهَ تَعَالَى فِيمَا وُلِّيتَ مِنْ أَمْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَأَهْلِ رَعِيَّتِكَ فِي نَفْسِكَ خَاصَّةً ، فَإِنَّكَ مُحَاسَبٌ ، وَمَسْئُولٌ عَمَّا اسْتَرْعَيْتَ ، وَأَنْتَ أَمِينٌ ، وَعَلَيْكَ أَنْ تُؤَدِّيَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الْأَمَانَةِ ، فَتُعْطَى أَجْرَكَ عَلَى قَدْرِ عَمَلِكَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا صَدَقَنِي رَجُلٌ مُنْذُ اسْتُخْلِفْتُ غَيْرُكَ ، مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ زِيَادٍ ، فَقَالَ : أَخُو الْمُهَاجِرِ بْنِ زِيَادٍ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَجَهَّزَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَيْشًا ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمُ الْأَشْعَرِيَّ ، ثُمَّ قَالَ : انْظُرْ رَبِيعَ بْنَ زِيَادٍ ، فَإِنْ يَكُ صَادِقًا فِيمَا قَالَ ، فَإِنَّ عِنْدَهُ عَوْنًا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ فَاسْتَعْمِلْهُ ، ثُمَّ لَا يَأْتِيَنَّ عَلَيْكَ عَشْرٌ إِلَّا تَعَاهَدْتَ مِنْهُ عَمَلَهُ وَكَتَبْتَ إِلَيَّ بِسِيرَتِهِ فِي عَمَلِهِ ، حَتَّى كَأَنِّي أَنَا الَّذِي اسْتَعْمَلْتُهُ ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ بَعْدِي مُنَافِقٌ عَالِمُ اللِّسَانِ .عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک وفد کی آمد پر لوگوں کو جمع کیا اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو دیکھو اور سب سے پہلے انہیں اندر آنے کی اجازت دو، پھر ان لوگوں کو جو ان کے بعد (مرتبے میں) ہیں۔“ پس وہ لوگ داخل ہوئے اور ان کے سامنے صف بستہ ہو گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نظر دوڑائی تو ایک تنومند اور جسیم شخص نظر آیا جس پر دھاری دار یمنی چادروں کا جوڑا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف اشارہ کیا تو وہ ان کے قریب آ گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: ”کچھ کہو“، اس شخص نے بھی جواب میں تین مرتبہ یہی کہا: ”جی کہیے“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیزاری سے فرمایا: ”اف! کھڑے ہو جاؤ (یعنی یہاں سے ہٹ جاؤ)۔“ وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ پھر آپ نے دیکھا تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نظر آئے جو کہ ہلکے بدن کے حامل، پست قد اور پختہ کار شخص تھے، آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا تو وہ قریب آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کچھ کہو“، تو انہوں نے بھی جواب میں کہا: ”جی کہیے“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: ”کچھ کہو“ تو انہوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! آپ کوئی سوال کیجیے اور بات کا آغاز فرمائیے تاکہ ہم آپ سے گفتگو کر سکیں (یعنی آپ گفتگو کا رخ متعین کریں)۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اف! تم بھی کھڑے ہو جاؤ، تمہارے لیے ایک بکریوں کا چرواہا بھی فائدہ مند نہیں ہو سکتا (جو تمہارے لیے بات کا آغاز نہ کرے)۔“ پھر آپ نے دیکھا تو ایک سفید رنگت اور ہلکے بدن والے شخص (ربیع بن زیاد) نظر آئے، آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا تو وہ آپ کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کچھ کہو“، تو وہ فوراً اچھل کر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور اللہ کے احکامات کے ذریعے آپ کو نصیحت کی۔
پھر انہوں نے کہا: ”بے شک آپ کو اس امت کے معاملات کا ذمہ دار بنایا گیا ہے، لہٰذا جس امت اور رعایا کے معاملے کا آپ کو ولی بنایا گیا ہے، ان کے بارے میں اور خاص طور پر اپنی ذات کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے، کیونکہ آپ سے (قیامت کے دن) بازپرس کی جائے گی اور جس رعایا کا آپ کو نگران بنایا گیا ہے اس کے متعلق سوال ہوگا؛ آپ امین ہیں اور آپ پر لازم ہے کہ اپنی یہ امانت ادا کریں، تبھی آپ کو آپ کے عمل کے مطابق اجر دیا جائے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب سے میں خلیفہ بنا ہوں، آپ کے سوا کسی شخص نے مجھ سے ایسی سچی اور کھری بات نہیں کہی، آپ کون ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں ربیع بن زیاد ہوں۔“ آپ نے پوچھا: ”مہاجر بن زیاد کے بھائی؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر تیار کیا اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا، پھر (ان سے) فرمایا: ”ربیع بن زیاد کا خیال رکھنا، اگر یہ اپنی بات میں سچا ثابت ہو تو اس کے پاس حکومت کے معاملات چلانے میں بہترین مدد موجود ہے، اسے (کسی منصب پر) فائز کرنا، پھر ہر دس دن کے بعد اس کے کام کی نگرانی کرنا اور اس کی کارکردگی اور سیرت کے بارے میں مجھے لکھتے رہنا، یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہو جیسے میں نے خود اسے مقرر کیا ہو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمارے نبی ﷺ نے ہم سے عہد لیا تھا اور فرمایا تھا: ”تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے، وہ زبان کا ماہر منافق ہے (یعنی جو زبان کا تو تیز ہو مگر دل میں نفاق رکھتا ہو)۔““