المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، قَالَ : وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ كَأَنَّمَا هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ .
فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْهَدُ إِلَيْكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللهَ تَعَالَى ، وَتَلْزَمُوا سُنَّتِي ، وَسُنَّةَ الْخُلَفَاءِ الْهَادِيَةَ الْمَهْدِيَّةَ ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ، وَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ .
2984 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، بِهِ .اہلِ شام کے ایک بزرگ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک موثر نصیحت فرمائی تو ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! گویا یہ کسی رخصت ہونے والے کی الوداعی نصیحت ہے، پس آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، اور یہ کہ تم میری سنت اور ہدایت یافتہ و راہِ راست پر چلنے والے خلفاء کے طریقے کو لازم پکڑو، اسے اپنی داڑھوں سے مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اور اگر تم پر کوئی حبشی غلام بھی امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، اور یقیناً ہر بدعت گمراہی ہے۔“
امام ابویعلیٰ نے بھی اس حدیث کو حسن بن حماد، ابواسامہ اور عوف کی سند سے روایت کیا ہے۔