المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَقَالَ : وَقَفَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى قَوْمٍ يَقُصُّ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : وَاللهِ ، لَقَدْ فَضَّلْتُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَنًا ، وَلَقَدِ ابْتَدَعْتُمْ بِدْعَةً ظُلْمًا ، اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا وَاللهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ لَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَيِّنًا ، وَلَئِنِ ابْتَدَعْتُمْ لَقَدْ ظَلَمْتُمْ ظُلْمًا بَعِيدًا ، أَوْ قَالَ : ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا .
الشَّكُّ مِنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کچھ ایسے لوگوں کے پاس آ کر رکے جن میں سے بعض دوسروں کو قصے کہانیاں سنا رہے تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے (ان کے اس عمل پر تنبیہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”اللہ کی قسم! یا تو تم نے محمد ﷺ کے صحابہ پر علانیہ فضیلت حاصل کر لی ہے، یا پھر تم نے سراسر ظلم پر مبنی ایک بدعت ایجاد کر لی ہے۔ تم (سنت کی) پیروی کرو اور بدعت اختیار نہ کرو؛ اللہ کی قسم! اگر تم نے (صحابہ کے نقشِ قدم کی) اتباع کی تو تم یقیناً بہت دور تک سبقت لے جاؤ گے، اور اگر تم نے نئی راہیں نکال لیں تو تم نے بہت بڑا ظلم کیا“، یا انہوں نے یہ فرمایا: ”تم بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے۔“
یہ شک (کہ آپ نے لفظِ 'ظلم' کہا یا 'گمراہی') راوی ابن ابی عمر کی طرف سے ہے۔