المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ أَبُو عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي مَهْدِيُّ بْنُ أَبِي مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : مَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِنْ عَامٍ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً ، وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً ، حَتَّى تَحْيَى الْبِدَعُ ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”لوگوں پر کوئی بھی سال ایسا نہیں آتا مگر وہ اس میں کسی نئی بدعت کو جنم دیتے ہیں اور ایک (ثابت شدہ) سنت کو مٹا دیتے ہیں، یہاں تک کہ معاشرے میں بدعات زندہ و رائج ہو جاتی ہیں اور سنتیں مردہ و متروک ہو جاتی ہیں۔“
اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر (10650) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند جید ہے۔