المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2979
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : لِيَقُمْ خُصَمَاءُ اللهِ تَعَالَى ، وَهُمُ الْقَدَرِيَّةُ .
2979 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، بِهَذَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ایک منادی (اعلان کرنے والا) پکارے گا: اللہ تعالیٰ کے مدِ مقابل جھگڑا کرنے والے کھڑے ہو جائیں، اور وہ قدریہ (یعنی تقدیر کا انکار کرنے والے) ہیں۔“
اور امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند سے سلیمان بن عبداللہ المروزی کے واسطے سے بقیہ بن ولید ہی سے اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے۔