المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2978
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَرِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ : الْقَدَرِيَّةُ ، وَالْمُرْجِئَةُ .ترجمہ
سیدنا ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جو (قیامت کے دن) حوضِ کوثر پر وارد نہیں ہوں گے: ایک قدریہ (جو تقدیر کا انکار کرنے والے ہیں) اور دوسرے مرجئہ (جو ایمان کے مقابلے میں عمل کی اہمیت کے منکر ہیں)۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ کا حافظہ متکلم فیہ ہے اور بقیہ بن ولید کی تدلیس کی وجہ سے محدثین نے اس کی سند پر جرح کی ہے، تاہم دیگر طرق سے اس کے شواہد موجود ہیں۔