❮
❯
حدیث نمبر: 2980
وَقَالَ : إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سُوَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهِمُ الْأَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ ، سَرَّحَهُمْ وَحَبَسَهُ عِنْدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرِي لِمَ حَبَسْتُكَ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَذَّرَنَا كُلَّ مُنَافِقٍ عَالِمِ اللِّسَانِ ، وَإِنِّي تَخَوَّفْتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ، وَأَرْجُو أَنْ لَا تَكُونَ مِنْهُمْ ، فَأَفْرِغْ مِنْ ضَيْعَتِكَ ، وَالْحَقْ بِأَهْلِكَ .
قَالَ حَمَّادٌ : وَقَالَ مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ .
قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي عُثْمَانَ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ .
ترجمہ

حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب اہل بصرہ کا وفد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جن میں احنف بن قیس رحمہ اللہ بھی شامل تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے وفد کے دیگر شرکاء کو رخصت کر دیا مگر انہیں اپنے پاس روک لیا، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں روک رکھا ہے؟ درحقیقت رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہر اس منافق سے خبردار کیا ہے جو زبان کا عالم (انتہائی فصیح و بلیغ اور خوش گفتار) ہو، اور مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں تم ان میں سے نہ ہو، تاہم میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ تم ان میں سے نہیں ہو گے، اب تم اپنی مصروفیات سے فارغ ہو جاؤ اور اپنے اہل خانہ کے پاس چلے جاؤ۔“
حماد کہتے ہیں کہ میمون الکردی نے ابو عثمان نہدی کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ابو عثمان کی حدیث کو امام احمد رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2980
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 235، وأخرجه مسند أحمد برقم: 145، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 11، وأخرجه مسند البزار برقم: 305، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2985»