المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ التحذير مِنْ البدع باب: بدعات (دین میں ایجاد کردہ نو پیدا امور) سے ڈرانے اور ان سے خبردار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2977
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : الْقَدَرِيَّةُ ، وَالْمُرْجِئَةُ .
قُلْتُ : فِيهِ انْقِطَاعٌ .ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جو (اپنے باطل نظریات کی بنا پر) جنت میں داخل نہیں ہوں گے: ایک قدریہ (جو اللہ کی تقدیر کا انکار کرتے ہیں اور انسان کو اپنے افعال کا خود خالق سمجھتے ہیں) اور دوسرے مرجئہ (جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتا اور عمل کا ایمان میں کوئی حصہ نہیں ہے)۔“
میں کہتا ہوں: اس حدیث کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے (یعنی راویوں کے مابین تسلسل برقرار نہیں ہے)۔