المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ افتراق الأمة باب: امت کے گروہوں میں بٹ جانے اور اس میں واقع ہونے والے افتراق و انتشار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ فِي أُمَّتِي لَنَيِّفًا وَسَبْعِينَ دَاعِيًا ، كُلُّهُمْ يَدْعُو إِلَى النَّارِ ، لَوْ أَشَاءُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِآبَائِهِمْ ، وَقَبَائِلِهِمْ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں ستر سے کچھ زائد (فتنہ پرور) پکارنے والے پیدا ہوں گے، وہ سب کے سب لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف بلائیں گے، اور اگر میں چاہوں تو ان کے باپ دادا کے نام اور ان کے قبیلوں کے بارے میں بھی تمہیں آگاہ کر دوں۔“
اس حدیث کی سند میں لیث بن ابی سلیم موجود ہیں جو کثرتِ اختلاط کی بنا پر ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم امت میں فتنوں اور گمراہ کن داعیوں کی آمد کی خبر دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔