المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ افتراق الأمة باب: امت کے گروہوں میں بٹ جانے اور اس میں واقع ہونے والے افتراق و انتشار کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ حَدَّثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأُمَمِ ، قَالَ : تَفَرَّقَتْ أُمَّةُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، سَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَتَفَرَّقَتْ أُمَّةُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، إِحْدَى وَسَبْعُونَ مِنْهَا فِي النَّارِ ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَتَعْلُو أُمَّتِي عَلَى الْفِرْقَتَيْنِ جَمِيعًا بِمِلَّةٍ : اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِي النَّارِ ، وَوَاحِدَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، قَالُوا : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْجَمَاعَةُ .
قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ : وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا مَعَهُ قُرْآنًا : وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّةَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ثُمَّ ذَكَرَ أُمَّتَنَا فَقَالَ : وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو گزشتہ امتوں کے حالات بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کی امت اکہتر (71) گروہوں میں بٹ گئی تھی، جن میں سے ستر دوزخ میں ہیں اور صرف ایک جنت میں ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کی امت بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہوگئی، جن میں سے اکہتر آگ میں ہیں اور ایک جنت میں ہے، جبکہ میری امت ان دونوں امتوں کے گروہوں کی مجموعی تعداد سے بھی ایک بڑھ جائے گی (یعنی تہتر فرقے ہوں گے)، جن میں سے بہتر (72) آگ میں ہوں گے اور صرف ایک جنت میں جائے گا۔“ صحابہ کرام نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! وہ (ناجی گروہ) کون سا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”الجماعۃ (یعنی حق پر قائم رہنے والی جماعت)۔“
یعقوب بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے تو اس کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت فرماتے، قومِ موسیٰ کے متعلق: ﴿وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ [سورة الأعراف: 159]، پھر اہل کتاب (امتِ عیسیٰ) کے بارے میں تلاوت فرماتے: ﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ﴾ [سورة المائدة: 65]، اور پھر ہماری امت کے بارے میں یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ﴾ [سورة الأعراف: 181]۔