❮
❯
حدیث نمبر: 2974
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ : كُنْتُ بِدِمَشْقَ ، فَجِيءَ بِسَبْعِينَ رَأْسًا مِنْ رُؤُوسِ الْحَرُورِيَّةِ ، فَنُصِبَتْ ، فَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَجَعَلَ يُهَرِيقُ عَبْرَتَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : مَا يَصْنَعُ إِبْلِيسُ بِأَهْلِ الْإِسْلَامِ ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا غَالِبٍ ، إِنَّكَ بِبَلَدٍ أَهْوِيَتُهُ كَثِيرَةٌ ، وَمُهَوِّلَاتُهُ كَثِيرٌ ، قُلْتُ : أَجَلْ ، قَالَ : أَعَاذَكَ اللهُ مِنْهُمْ ... قُلْتُ : وَلِمَ تُهَرِيقُ عَبْرَتَكَ ؟ قَالَ : رَحْمَةً لَهُمْ ، إِنَّهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ قَالَ : تَقْرَأُ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : اقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ : هُوَ الَّذِي أَنْـزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ قَالَ : كَانَ هَؤُلَاءِ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ ، فَزِيغَ بِهِمْ ، ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ قُلْتُ : أَهُمْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَفَرَّقَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، أَمَا تَرَى السَّوَادَ الْأَعْظَمَ مَا يَصْنَعُونَ ؟ قَالَ : عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ خَيْرٌ مِنَ الْمَعْصِيَةِ وَالْفُرْقَةِ ، يَقْضُونَ لَنَا ثُمَّ يَقْتُلُونَنَا ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : هَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثْتَ بِهِ شَيْئًا أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَقُولُهُ عَنْ رَأْيِكَ ؟ قَالَ : إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، حَتَّى قَالُوا سَبْعًا .
2974 \ 2 - وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ السُّلَيْكِ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي الْبَصْرَةِ زَمَنَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، فَجِيءَ بِرُؤُوسِ الْخَوَارِجِ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَابْنُ مَاجَهْ ، وَأَحْمَدُ ، بِاخْتِصَارٍ .
ترجمہ

ابو غالب سے روایت ہے کہ وہ دمشق میں تھے کہ اس دوران حروریہ (خوارج) کے ستر سر لائے گئے اور انہیں (عبرت کے لیے) نمایاں جگہ پر نصب کر دیا گیا، اتنے میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے، مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز ادا کی، پھر باہر نکل کر ان سروں کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کافی دیر تک ان پر زار و قطار آنسو بہاتے رہے، پھر تین بار فرمایا: ”ابلیس اہل اسلام کے ساتھ کیسا (سفاکانہ) سلوک کر رہا ہے؟“ پھر فرمایا: ”اے ابو غالب! تم ایک ایسے شہر میں ہو جہاں نفسانی خواہشات بہت زیادہ ہیں اور گمراہ کن ہولناک فتنے بکثرت ہیں،“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو انہوں نے دعا دی: «أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْهُمْ» ”اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔“ میں نے پوچھا: آپ ان پر آنسو کیوں بہا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”ان پر ترس کھاتے ہوئے، کیونکہ وہ بھی اہل اسلام میں سے تھے (پھر گمراہ ہو گئے)۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”کیا تم سورہ آل عمران پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت پڑھو: ﴿هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ﴾ [سورة آل عمران: 7]“ اور فرمایا: ”انہی لوگوں کے دلوں میں کجی تھی جس کی بنا پر وہ گمراہی کا شکار ہوئے،“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ﴾ [سورة آل عمران: 106]، میں نے پوچھا: کیا یہ (خوارج) وہی لوگ ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بنو اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے، وہ سب کے سب آگ میں جائیں گے سوائے سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کے۔“ تب میرے پہلو میں موجود ایک شخص نے کہا: اے ابو امامہ! کیا آپ سوادِ اعظم (یعنی حکمرانوں اور بڑی جماعت) کو نہیں دیکھ رہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”ان پر ان کی ذمہ داری کا بوجھ ہے اور تم پر تمہاری ذمہ داری کا بوجھ ہے، اور اگر تم (اللہ کے رسول کی) اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، سنو! سمع و طاعت (امیر کی بات سننا اور ماننا) معصیت اور تفرقہ بازی سے بدرجہا بہتر ہے، وہ ہمارے حق میں فیصلے کرتے ہیں اور پھر ہمیں ہی قتل کر ڈالتے ہیں۔“ میں نے ان سے پوچھا: کیا یہ حدیث آپ اپنی طرف سے بیان کر رہے ہیں یا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے یہ رسول اللہ ﷺ سے نہ سنی ہوتی تو میں تمہارے سامنے بیان کرنے کی جسارت کرنے والا بڑا ہی نڈر شخص ہوتا، میں نے تو یہ بات آپ ﷺ سے ایک بار نہیں، دو بار، تین بار، یہاں تک کہ انہوں نے سات بار (سماع کا) ذکر فرمایا۔“
امام حارث نے اپنی سند سے ابو غالب ہی کے واسطے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں عبدالملک بن مروان کے دورِ حکومت میں بصرہ میں موجود تھا جب خوارج کے سر لائے گئے، پھر انہوں نے سابقہ روایت کی طرح ہی تفصیل ذکر کی۔
اسے امام ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2974
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 12، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3452/1، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 3000، وأخرجه مسند أحمد برقم: 21705، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 18663، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8036، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10435، 10436»