❮
❯
حدیث نمبر: 2966
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَمَّا خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْخَلْقَ ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، فَأَخَذَ أَهْلَ الْيَمِينِ بِيَمِينِهِ ، وَأَهْلَ الشِّمَالِ بِيَدِهِ الْأُخْرَى ، وَكِلْتَا يَدَيِ الرَّحْمَنِ يَمِينٌ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَصْحَابَ الْيَمِينِ ، فَقَالُوا : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَصْحَابَ الشِّمَالِ فَقَالُوا : لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَخَلَطَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ، قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : رَبَّنَا لِمَ خَلَطْتَ بَيْنَنَا ؟ قَالَ : وَلَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ إِلَى قَوْلِهِ : كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ ثُمَّ رَدَّهُمْ فِي صُلْبِ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَلَقَ اللهُ تَعَالَى الْخَلْقَ ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلُهَا ، وَأَهْلُ النَّارِ أَهْلُهَا ، قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، مَا الْأَعْمَالُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ يَعْمَلَ كُلُّ قَوْمٍ بِمَنْزِلَتِهِمْ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّا نَجْتَهِدُ ، وَقَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَعْمَالِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ الْأَعْمَالَ ، أَهُوَ شَيْءٌ يُؤْتَنَفُ ، أَمْ فُرِغَ مِنْهُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ فُرِغَ مِنْهُ .
2966 \ 2 - 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنَفِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى قَوْلِهِ : وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ أَهْلُهَا ، وَأَهْلُ النَّارِ أَهْلُهَا .
ترجمہ

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، تقدیر کا فیصلہ فرما دیا اور انبیاء علیہم السلام سے عہدِ میثاق لیا، اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا، تو اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ والوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیا اور بائیں ہاتھ والوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لیا، اور رحمٰن کے دونوں ہی ہاتھ دائیں (بابرکت اور صاحبِ قدرت) ہیں، پھر اللہ نے فرمایا: اے دائیں ہاتھ والو! تو انہوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ» ”ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! ہم تیری خدمت اور اطاعت کے لیے بار بار حاضر ہیں“۔ اللہ نے دریافت فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ [سورة الأعراف: 172] ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (تو ہی ہمارا رب ہے)۔ پھر اللہ نے فرمایا: اے بائیں ہاتھ والو! تو انہوں نے عرض کیا: «لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ» ”ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! ہم تیری خدمت اور اطاعت کے لیے بار بار حاضر ہیں“۔ اللہ نے دریافت فرمایا: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ [سورة الأعراف: 172] ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (تو ہی ہمارا رب ہے)۔ پھر اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیا، تو ان میں سے کسی کہنے والے نے عرض کیا: اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں آپس میں کیوں خلط ملط کر دیا؟ اللہ نے فرمایا: ﴿وَلَهُمْ أَعْمَالٌ مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 63] ”اور ان کے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں جنہیں وہ کرنے والے ہیں“ یہاں تک کہ اس قول تک ﴿إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ﴾ [سورة الأعراف: 172] ”بیشک ہم اس سے بے خبر تھے“۔ پھر اللہ نے ان سب کو آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی پشت میں واپس لوٹا دیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، فیصلہ فرما دیا، اور انبیاء سے عہد لیا جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، پس اہل جنت (حقیقتاً) جنت ہی کے رہنے والے ہیں اور اہل دوزخ دوزخ ہی کے رہنے والے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں کہ کسی نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! پھر ان اعمال کی کیا حقیقت ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر گروہ اپنے (مقدر شدہ) مرتبے کے مطابق ہی عمل کرے گا“۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) کہا: ”تب تو ہم (نیکیوں میں) خوب جی توڑ کر محنت کریں گے“۔ نیز آپ ﷺ سے اعمال کے بارے میں دریافت کیا گیا، صحابہ نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا اعمال کے متعلق کیا خیال ہے، کیا یہ کوئی نئی شروع ہونے والی چیز ہے یا ان سے فارغ ہوا جا چکا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ان سے فارغ ہوا جا چکا ہے (یعنی فیصلہ ہو چکا ہے)“۔
امام طیالسی نے اسے جعفر بن زبیر حنفی کے واسطے سے قاسم سے، انہوں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر انہوں نے حدیث کے آغاز سے لے کر ان الفاظ تک ذکر کیا: ”اور اس کا عرش پانی پر تھا، پس اہل جنت جنت والے ہیں اور اہل دوزخ دوزخ والے ہیں“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2966
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11794، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 108، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 190/1»