المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2965
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْوَاصِلِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ وَاصِلٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : يَا وَلِيَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ ، سَكِّنِّي بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ بِهِ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات ارشاد فرمایا کرتے تھے: «يَا وَلِيَّ الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ ، سَكِّنِّي بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ بِهِ» ”اے اسلام اور اہل اسلام کے سرپرست و کارساز! مجھے اس (دینِ اسلام) پر ثابت قدم اور مطمئن رکھ یہاں تک کہ میں اسی حالت میں تجھ سے جا ملوں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عتاب بن بشیر صدوق ہیں لیکن ان کے حافظے کے متعلق محدثین کے ہاں کلام پایا جاتا ہے، تاہم دعا کے یہ الفاظ دیگر شواہد کی بنا پر معروف ہیں۔