المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، رِوَايَةً : إِنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَخَلَقَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وَخَلَقَ آدَمَ ، ثُمَّ نَثَرَ ذُرِّيَّتَهُ فِي كَفَّيْهِ ، ثُمَّ أَفَاضَ بِهِمَا ، فَقَالَ : هَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي ، وَهَؤُلَاءِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي ، وَكَتَبَ أَهْلَ الْجَنَّةِ وَمَا هُمْ عَامِلُونَ ، وَكَتَبَ أَهْلَ النَّارِ وَمَا هُمْ عَامِلُونَ ، ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ ، وَرُفِعَ .
مُرْسَلٌ .ابوصالح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، اور جنت و دوزخ کی تخلیق فرمائی، اور آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا، پھر ان کی ذریت (نسل) کو اپنی دونوں ہتھیلیوں میں بکھیر دیا، پھر انہیں (تقسیم کی غرض سے) پھیلاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یہ لوگ اس (جنت) کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، اور یہ لوگ اس (دوزخ) کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں“، نیز اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور ان کے کیے جانے والے اعمال کو بھی لکھ دیا، اور اہل جہنم اور ان کے سرزد ہونے والے اعمال کو بھی درج فرما لیا، پھر اس نوشتہ (کتابِ تقدیر) کو لپیٹ دیا گیا اور اسے اٹھا لیا گیا۔“
یہ روایت مرسل ہے۔