المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَتُبْتَدَأُ الْأَعْمَالُ ، أَمْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمَّا أَخْرَجَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنْ ظَهْرِهِ ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى نَفْسِهِ ، ثُمَّ أَفَاضَ بِهِمْ مِنْ كَفَّيْهِ ، قَالَ : هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ ، وَهَؤُلَاءِ لِلنَّارِ ، فَأَهْلُ الْجَنَّةِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ .
هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا اعمال کی ابتدا (اب) ہو رہی ہے یا (ان کا) فیصلہ پہلے ہی صادر کیا جا چکا ہے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، پھر انہیں اپنی دونوں ہتھیلیوں سے پھیلا کر جدا کیا تو فرمایا: ”یہ لوگ جنت کے لیے ہیں اور یہ لوگ دوزخ کے لیے ہیں۔“ پس جو اہل جنت ہیں، ان کے لیے اہل جنت والے اعمال (کرنا) آسان کر دیے جاتے ہیں، اور جو اہل دوزخ ہیں، ان کے لیے دوزخیوں والے اعمال (کرنا) سہل بنا دیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث غریب ہے۔