❮
❯
حدیث نمبر: 2960
وَقَالَ : أَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مَكَّةَ يَتَكَلَّمُ فِي الْقَدَرِ ، فَقَالَ : أَرُونِيهِ آخُذُ بِرَأْسِهِ ، فَوَاللهِ لَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَّنَّهَا ، وَلَئِنْ وَقَعَ أَنْفُهُ فِي يَدَيَّ لَأَعَضَنَّهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فَهْمٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ ، تَصْطَكُّ أَلَيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ ، وَهَذَا أَوَّلُ شِرْكٍ فِي الْإِسْلَامِ ، وَاللهِ لَا يَنْتَهِي بِهِمْ سُوءُهُمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللهَ مِنْ أَنْ يُقَدِّرَ الْخَيْرَ ، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يُقَدِّرَ الشَّرَّ .
قَالَ بَقِيَّةُ : فَلَقِيتُ الْعَلَاءَ بْنَ عُيَيْنَةَ فَحَدَّثَنِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص مکہ مکرمہ آیا جو مسئلہ تقدیر میں (بے جا اور گمراہ کن) گفتگو کرتا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (نہایت غصے کی حالت میں) فرمایا: ”مجھے وہ شخص دکھاؤ تاکہ میں اس کا سر پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر اس کی گردن میرے ہاتھ لگ گئی تو میں اسے ضرور توڑ دوں گا، اور اگر اس کی ناک میرے قابو میں آ گئی تو میں اسے دانتوں سے کاٹ کھاؤں گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”گویا میں قبیلہ بنو فہم کی عورتوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ (جاہلیت کے بت) خزرج کے گرد طواف کر رہی ہیں، اس حال میں کہ وہ مشرکہ ہوں گی اور (ہجوم کے باعث) ان کے کولہے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوں گے، اور اسلام (کے دور) میں یہی پہلا شرک ہوگا۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں کی بد عملی اور شر پسندی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اس بات سے (منکر ہو کر) خارج نہ کر دیں کہ وہ خیر (بھلائی) کی تقدیر طے فرماتا ہے، جیسا کہ انہوں نے اللہ کو اس بات سے خارج کر دیا ہے کہ وہ شر (برائی) کی تقدیر مقدر فرماتا ہے“۔“
بقیہ کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات علاء بن عیینہ سے ہوئی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث محمد بن عبید کے واسطے سے، انہوں نے مجاہد بن جبر ابوالحجاج سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے روایت کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2960
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 3046»