المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ : الشَّرُّ لَيْسَ بِقَدَرٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَيْنَنَا وَبَيْنَ أَهْلِ الْقَدَرِ : سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلا آبَاؤُنَا حَتَّى بَلَغَ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَالْعَجْزُ وَالْكَيْسُ مِنَ الْقَدَرِ .
قَالَ طَاوُسٌ : وَالْمُتَكَلِّمَانِ مِنَ الْقَدَرِيَّةِ يَقُولَانِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَاجْتَنِبُوا الْكَلَامَ فِي الْقَدَرِ .
قَالَ : وَلَقِيَ إِبْلِيسُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يُصِيبُكَ إِلَّا مَا قُدِّرَ عَلَيْكَ ، فَأَوْفِ بِذِرْوَةِ الْجَبَلِ ، فَتَرَدَّ مِنْهُ ، فَانْظُرْ أَتَعِيشُ أَمْ لَا ؟ فَقَالَ عِيسَى : إِنَّ اللهَ يَقُولُ : إِنَّ الْعَبْدَ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُجَرِّبَنِي ، وَمَا شِئْتُ فَعَلْتُ .
قَالَ مَعْمَرٌ : وَقَالَ الزُّهْرِيُّ : لَقِيَ إِبْلِيسُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : قَالَ عِيسَى لَهُ : إِنَّ الْعَبْدَ لَا يَبْتَلِي رَبَّهُ ، وَلَكِنَّ اللهَ يَبْتَلِي عَبْدَهُ ، فَخَصَمَهُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”شر یعنی برائی تقدیر کے فیصلے سے نہیں ہے“، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (اس کی تردید میں) فرمایا: ”ہمارے اور منکرینِ تقدیر کے درمیان فیصلہ کن دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ﴾ [سورة الأنعام: 148] یہاں تک کہ ارشاد ہوا: ﴿قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ﴾ [سورة الأنعام: 149]۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا: ”عاجزی و درماندگی ہو یا عقل و دانشمندی، سب کچھ اللہ کی تقدیر ہی سے ہے۔“
امام طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تقدیر کا انکار کرنے والے یہ متکلمین بغیر علم کے گفتگو کرتے ہیں، لہٰذا تم لوگ تقدیر کے پیچیدہ مسائل میں بحث و تکرار سے اجتناب کرو۔“
نیز مروی ہے کہ ابلیس کی ملاقات سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ہوئی تو اس نے وسوسہ ڈالتے ہوئے کہا: ”کیا آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آپ کو وہی کچھ پیش آئے گا جو آپ کی تقدیر میں مقدر کر دیا گیا ہے؟ تو پھر آپ پہاڑ کی بلند چوٹی پر چڑھ کر وہاں سے خود کو نیچے گرا دیں اور دیکھیں کہ آپ زندہ بچتے ہیں یا نہیں؟“ عیسیٰ علیہ السلام نے اسے جواب دیا: ”بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «إِنَّ الْعَبْدَ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُجَرِّبَنِي» ”بندے کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ میرا امتحان لے“، اور میں جو چاہتا ہوں وہی کرتا ہوں۔“
معمر کہتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کا واقعہ ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: ”بندہ اپنے رب کی آزمائش نہیں لیتا بلکہ اللہ اپنے بندے کو آزماتا ہے“، پس آپ علیہ السلام نے اسے علمی طور پر مغلوب اور لاجواب کر دیا۔