المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا باب: ان اوقات کا بیان جن میں نماز ادا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 296
[وَ] قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ( نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ عَلَى قَرْنِ - أَوْ قَرْنَيِ - الشَّيْطَانِ ) .ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے نمازِ فجر کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ سورج شیطان کے سینگ (یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے دونوں سینگوں) کے اوپر طلوع ہوتا ہے۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے، اسے امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں اور امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور اس مفہوم کی احادیث صحیحین میں بھی موجود ہیں۔