المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الصَّلَاةِ فِيهَا باب: ان اوقات کا بیان جن میں نماز ادا کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ : أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَنَهَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .
فَقَالَ طَاوُسٌ : إِنَّمَا نُهِيَ عَنْهَا أَنْ يَتَّخِذَهَا سُلَّمًا .
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ الْآيَةَ ، وَمَا أَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهَا أَمْ تُؤْجَرُ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَأَصْلُهُ فِي النَّسَائِيِّ .امام طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھا کرتے تھے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اس سے منع فرمایا، جس پر طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: ”اس نماز سے تو محض اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں کوئی اسے (مستقل عادت بنا کر دوسری نمازوں تک پہنچنے کا) زینہ نہ بنا لے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (قرآنی آیت تلاوت کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 36] ”اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ صادر فرما دیں تو پھر انہیں اپنے اس معاملے میں (مخالفت کا) کوئی اختیار باقی رہے۔“ اور مزید فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ تمہیں اس (عمل) پر سزا دی جائے گی یا ثواب ملے گا۔“
اس کی سند صحیح ہے اور اس کی اصل سنن نسائی میں موجود ہے۔