المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنُ أُخْتِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ :
إِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ رِجَالًا يَقُولُونَ : قَدَّرَ اللهُ تَعَالَى كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الشَّرَّ ، قَالَ : فَوَاللهِ ، مَا رَأَيْتُ سَعِيدًا غَضِبَ غَضَبًا قَطُّ مِثْلَ غَضَبِهِ يَوْمَئِذٍ ، حَتَّى هَمَّ بِالْقِيَامِ ، ثُمَّ قَالَ : فَعَلُوهَا ؟ وَيْحَهُمْ لَوْ تَعْلَمُونَ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ سَمِعْتُ فِيهِمْ حَدِيثًا ، كَفَاهُمْ بِهِ شَرًّا ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ يَرْحَمُكَ اللهُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيَّ ، وَقَدْ سَكَنَ غَضَبُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَبِالْقَدَرِ ، وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ، كَمَا كَفَرَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ : قُلْتُ : جُعِلْتُ فِدَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ يَقُولُونَ كَيْفَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُونَ : الْخَيْرُ مِنَ اللهِ ، وَالشَّرُّ مِنْ إِبْلِيسَ ، قَالَ : وَهُمْ يَقْرَؤُونَ عَلَى ذَلِكَ كِتَابَ اللهِ تَعَالَى ، وَيَكْفُرُونَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَالْمَعْرِفَةِ ، فَمَاذَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْهُمْ مِنَ الْعَدَاوَةِ ، وَالْبَغْضَاءِ ، وَالْجِدَالِ ، أُولَئِكَ زَنَادِقَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَفِي زَمَانِهِمْ يَكُونُ ظُلْمُ السُّلْطَانِ ، فَيَا لَهُ مِنْ ظُلْمٍ وَحَيْفٍ وَأَثَرَةٍ ، فَيَبْعَثُ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ طَاعُونًا ، فَيَفْنَى عَامَّتُهُمْ ، ثُمَّ يَكُونُ الْمَسْخُ وَالْخَسْفُ ، وَقَلِيلٌ مَنْ يَنْجُو مِنْهُمُ ، الْكُلُّ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ فَرَحُهُ ، شَدِيدٌ غَمُّهُ ، ثُمَّ يَكُونُ الْمَسْخُ يَمْسَخُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَامَّةَ أُولَئِكَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ ثُمَّ بَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَكَيْنَا لِبُكَائِهِ ، فَقِيلَ : مَا هَذَا الْبُكَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَحْمَةً لَهُمُ الْأَشْقِيَاءِ ؛ لِأَنَّ فِيهِمُ الْمُجْتَهِدَ ، وَفِيهِمُ الْمُتَعَبِّدَ ، مَعَ أَنَّهُمْ لَيْسُوا بِأَوَّلِ مَنْ سَبَقَ إِلَى هَذَا الْقَوْلِ ، وَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا ، إِنَّ عَامَّةَ مَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِهِ هَلَكَ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْإِيمَانُ بِالْقَدَرِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَحْدَهُ ، وَتَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ مَعَهُ أَحَدٌ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، وَتَعْلَمَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَهُمَا قَبْلَ الْخَلْقِ ، ثُمَّ خَلَقَ خَلْقَهُ ، فَجَعَلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ لِلْجَنَّةِ ، وَمَنْ شَاءَ مِنْهُمْ لِلنَّارِ .
2958 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ .عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ میں سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا تھا کہ وہاں موجود کسی شخص نے عرض کیا: ”اے ابومحمد! کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شر کے سوا ہر چیز کی تقدیر مقرر کر دی ہے“، راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے سعید بن مسیب کو کبھی اتنا زیادہ غضبناک ہوتے نہیں دیکھا جتنا وہ اس دن ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے غصے میں اٹھ جانے کا ارادہ کر لیا، پھر فرمایا: ”کیا واقعی انہوں نے یہ گستاخی کر ڈالی؟ ان پر ہلاکت ہو، کاش کہ تم جان لیتے! اللہ کی قسم! میں نے ان کے بارے میں ایک ایسی حدیث مبارکہ سنی ہے جو ان کی شرارت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے“، میں نے عرض کیا: ”اے ابومحمد! «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ آپ پر رحم کرے“ وہ کیا بات ہے؟“ تو انہوں نے میری طرف دیکھا جب کہ ان کا غصہ تھم چکا تھا اور فرمایا کہ مجھ سے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو اللہ تعالیٰ اور تقدیر کا انکار کر کے کفر کریں گی اور انہیں اس کا شعور تک نہ ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے یہودیوں اور عیسائیوں نے کفر کیا تھا“، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ پر قربان جاؤں، وہ یہ بات کس طرح کہیں گے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ کہیں گے کہ خیر (بھلائی) تو اللہ کی طرف سے ہے لیکن شر (برائی) ابلیس کی جانب سے ہے، حالانکہ وہ اس باطل نظریے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہوں گے اور ایمان و معرفت کے بعد اللہ عزوجل کے ساتھ کفر کے مرتکب ہوں گے۔ میری امت ان کی عداوت، بغض اور بحث و تکرار کی وجہ سے سخت مصائب کا سامنا کرے گی! یہی لوگ اس امت کے زندیق ہیں، اور انہی کے دور میں حکمرانوں کا ظلم و ستم ہو گا، اور وہ کیسا ہولناک ظلم، ناانصافی اور اقربا پروری کا زمانہ ہو گا! پھر اللہ تعالیٰ ان پر طاعون کی وبا مسلط فرما دے گا جس سے ان کی اکثریت ہلاک ہو جائے گی، پھر صورتوں کا مسخ ہونا اور زمین میں دھنسائے جانے کے واقعات ہوں گے اور ان میں سے بچ نکلنے والے بہت ہی تھوڑے ہوں گے، اس دن ہر ایک کی خوشی کم اور غم بہت زیادہ ہو گا، پھر اللہ عزوجل ان میں سے اکثر لوگوں کو بندر اور سور بنا کر ان کی شکلیں مسخ کر دے گا“۔ پھر رسول اللہ ﷺ اس قدر روئے کہ آپ ﷺ کے گریہ و زاری کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے، عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! اس قدر رونے کا سبب کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان بدبختوں پر ترس کھاتے ہوئے رو رہا ہوں، کیونکہ ان میں بڑی محنت کرنے والے اور شب بیدار عبادت گزار بھی ہوں گے، حالانکہ وہ اس گمراہ کن قول کو اختیار کرنے والے پہلے لوگ نہیں ہیں، بلکہ بنی اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت اسی نظریے کی وجہ سے برباد ہوئی تھی“۔ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! تقدیر پر ایمان لانے کی حقیقت کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم تنہا اللہ پر ایمان لاؤ اور یہ جان لو کہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا نفع یا نقصان پہنچانے کا ذرہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتا، نیز تم جنت و دوزخ پر ایمان لاؤ اور یہ پختہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہی پیدا فرما دیا تھا، پھر اپنی مخلوق کو پیدا کیا اور ان میں سے جسے چاہا اپنی مشیت سے جنت کے لیے چن لیا اور جسے چاہا دوزخ کے لیے مقرر کر دیا“۔
امام حارث کے علاوہ امام ابو یعلیٰ نے بھی اس روایت کو احمد الدورقی سے، انہوں نے مقری سے اور انہوں نے ابن لہیعہ کے واسطے سے عمرو بن شعیب سے انہی الفاظ کے ساتھ طوالت سے نقل کیا ہے۔