❮
❯
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ : وَإِذَا ذُكِرَ الْأَنْوَاءُ فَأَمْسِكُوا .
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اسی کے مثل (سابقہ روایت کے ہم معنی) ارشاد فرمایا اور یہ اضافہ کیا: ”اور جب ستاروں (اور ان کے اثرات) کا تذکرہ کیا جائے تو تم (گفتگو اور بحث سے) رک جایا کرو۔“
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ حسن بصری رحمہ اللہ تابعی ہیں، اور حدیث میں ’انواء‘ سے مراد وہ جاہلی نظریہ ہے جس میں بارش کو ستاروں کی گردش سے منسوب کیا جاتا تھا، اسی لیے ایسی بحثوں سے خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2957
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1427، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11849، 11850، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 220»