المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ : وَإِذَا ذُكِرَ الْأَنْوَاءُ فَأَمْسِكُوا .ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اسی کے مثل (سابقہ روایت کے ہم معنی) ارشاد فرمایا اور یہ اضافہ کیا: ”اور جب ستاروں (اور ان کے اثرات) کا تذکرہ کیا جائے تو تم (گفتگو اور بحث سے) رک جایا کرو۔“
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ حسن بصری رحمہ اللہ تابعی ہیں، اور حدیث میں ’انواء‘ سے مراد وہ جاہلی نظریہ ہے جس میں بارش کو ستاروں کی گردش سے منسوب کیا جاتا تھا، اسی لیے ایسی بحثوں سے خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔