المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2954
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا بَحْرٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا كَانَ أَصْلُ زَنْدَقَةٍ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَدْءَهَا تَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کبھی بھی کسی الحاد و بے دینی کی بنیاد ایسی نہیں پڑی مگر اس کی شروعات تقدیر کو جھٹلانے سے ہوئی ہے۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس کی سند میں بحر بن کنیز السقاء بصری موجود ہے اور وہ ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔