المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2955
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدَرٍ ، وَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ .ترجمہ
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پرندوں کا اڑنا (یعنی ان کے ذریعے نیک و بد شگون لینا) محض تقدیرِ الٰہی کے تابع ہے“ اور آپ ﷺ کو نیک فال یعنی اچھی بات سے اچھا شگون لینا بہت پسند تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے امام احمد نے المسند (25390) میں اور ابن حبان نے الصحیح (6117) میں روایت کیا ہے، اور محققین نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے۔