المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَدْرِ باب: تقدیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَزَالُ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ آمِنِينَ ، حَتَّى تَرُدُّوهُمْ عَنْ دِينِهِمْ كُفَّارًا حِمًا فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ آخَرُ ، فَقَالَ : أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا أَمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي النَّارِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْكُتُوا عَنِّي مَا سَكَتُّ عَنْكُمْ ، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَلَئِكُمْ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، حَتَّى تَعْرِفُوهُمْ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَلَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَفْعَلَ لَفَعَلْتُ .
لَيْثٌ ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قریش کا یہ قبیلہ اس وقت تک امن و عافیت کے ساتھ رہے گا جب تک کہ تم انہیں کفر کی طرف پھیر کر ان کے دین سے برگشتہ نہ کر دو۔“ اسی دوران ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں کھڑا ہوا اور دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میرا ٹھکانہ جنت میں ہے یا جہنم میں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور سوال کیا: ”کیا میں جنت میں ہوں گا یا جہنم میں؟“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جہنم میں۔“ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک میں تم سے (ایسی باتوں میں) خاموش رہوں تم بھی مجھ سے خاموش رہا کرو، کیونکہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم (دہشت کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں تمہیں تمہاری جماعت کے ان لوگوں کی خبر دے دیتا جو جہنمی ہیں، یہاں تک کہ تم انہیں موت کے وقت پہچان لیتے، اور اگر مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا جاتا تو میں یقیناً کر گزرتا۔“
اس کی سند میں موجود راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے۔